Posts

اسی لئے ترے دعووں پہ مسکرا رہے ہیں

بھنور سے یہ جو مجھے بادبان کھینچتا ہے

حضور آپ کا بھی احترام کرتا چلوں

ڈرے ہوئے ہیں سبھی لوگ ابر چھانے سے

ایک تصویر کہ اول نہیں دیکھی جاتی

مولا کسی کو ایسا مقدر نہ دیجیو

جو عام سا اک سوال پوچھا تو کیا کہیں گے

کبھی فراق کبھی لذت وصال میں رکھ

بے گھری کا اپنی یہ اظہار کم کر دیجئے

سر بازار بهی خود دار ہوئے بیٹهے ہیں

چار کتابیں پڑھ کر یہ بھی ہم جیسے ہو جائیں گے