Posts

راز سربستہ محبّت کے، زباں تک پہنچے 

آنکھ میں خواب بھی نہیں روح پہ قہر ہے کوئی

قرض نگاہ یار ادا کر چکے ہیں ہم

ایک قدم خشکی پر ہے اور دوسرا پانی میں

بنجر پڑا ہوا ہوں کوئی دیکھتا نہیں

دو عشق ، فیض احمد فیض

دم بشیراں کا بھر نہ جائے کہیں

ہے جواں اب تو خود کما بچو

Better Half

زمیں میں آسماں بیگم کہاں پر میں کہاں بیگم ​

حسن کی توپ کا گولہ مارا ترا ککھ نہ رہے​