لَو دل کا داغ دے اٹھے ایسا نہ کیجیے

لَو دل کا داغ دے اٹھے ایسا نہ کیجیے
ہے ڈر کی بات آگ سے کھیلا نہ کیجیے
کہتا ہے عکس حُسن کو رسوا نہ کیجیے
ہر وقت آپ آئینہ دیکھا نہ کیجیے
کہتی ہے مے فروشوں سے میری سفید ریش
دے دیں گے دام، اُن سے تقاضا نہ کیجیے
اچھی نہیں یہ آپ کی محشر خرامیاں
دُنیا کو اِس طرح تہ و بالا نہ کیجیے
ہے زیرِ بحث فرق سفید و سیاہ کا
بندِ نقاب اپنے ابھی وا نہ کیجیے
اُٹھنے کو اُٹھّے آپ کے کوچے سے روزِ حشر
ایسے کو آنکھ اُٹھا کے بھی دیکھا نہ کیجیے
اپنی حنا کو دیکھیے، نازک سے ہاتھ کو
وہ ڈر رہی ہے خونِ تمنّا نہ کیجیے
آئے گی خُم میں غیب سے وہ دے گا اے ریاض
تلچھٹ بھی کُچھ ہو تو غمِ فردا نہ کیجیے

ریاض خیر آبادی

Comments