Posts

Showing posts with the label آغا شاعر قزلباش

ابرو نہ سنوارا کرو کٹ جائے گی انگلی

انس اپنے میں کہیں پایا نہ بیگانے میں تھا

جان دیتے ہی بنی عشق کے دیوانے سے

بتوں کے واسطے تو دین و ایماں بیچ ڈالے ہیں

مجھ کو آتا ہے تیمم نہ وضو آتا ہے

گری گر کر اٹھی پلٹی تو جو کچھ تھا اٹھا لائی

مسکن وہیں کہیں ہے وہیں آشیاں کہیں

میں خودی میں مبتلا خود کو مٹانے کے لیے

انس اپنے میں کہیں پایا نہ بیگانے میں تھا

آغا شاعر قزلباش کی شاعری ، ﺟﺲ ﻧﮯ ﺗﺠﮭﮯ ﺧﻠﻮﺕ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺗﻨﮩﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ