Posts

Showing posts with the label امجد اسلام امجد

تھے خواب ایک ہمارے بھی اور تمہارے بھی

میں ازل کی شاخ سے ٹوٹا ہوا

پاؤں سے خواب باندھ کے شام وصال کے

وہ جو اک دعا سکون تھی میرے رخت میں وہی کھو گئی

ایک کمرہ امتحان میں

اپنے گھر کی کھڑکی سے میں آسمان کو دیکھوں گا

تیرا کیا بنے گا اے دل

بستیوں میں اک صدائے بے صدا رہ جائے گی

اہل نظر کی آنکھ میں تاج وہ کلاہ کیا

جیسے میں دیکھتا ہوں لوگ نہیں دیکھتے ہیں

چشم بے خواب کو سامان بہت

رات میں اس کشمکش میں ایک پل سویا نہیں

اداسی میں گھرا تھا دل چراغ شام سے پہلے

ہوا تھمی تھی ضرور لیکن

چہرے پہ میرے زلف کو پھیلاؤ کسی دن

یہ گرد باد تمنا میں گھومتے ہوئے دن

لفظ پس لفظ

اے گردش حیات کبھی تو دکھا وہ نیند

نہ آسماں سے نہ دشمن کے زور و زر سے ہوا

یہ گردباد تمنا میں گھومتے ہوئے دن