Posts

Showing posts with the label شکیب جلالی

اب میسّر نہیں فرصت کے وہ دن رات ہمیں

حسن کو عشق کی ضرورت ہے

غم حیات کی لذت بدلتی رہتی ہے

جہاں تلک بھی یہ صحرا دکھائی دیتا ہے

جس دم قفس میں موسم گل کی خبر گئی

آداب چمن بدل رہے ہیں

راز دل پابندیوں میں بھی بیاں ہو جائے گا

جب بھی گلشن پہ گھٹا چھائی ہے

راز حیات و موت بڑا عاشقانہ ہے

سرو سمن کی شوخ قطاروں کے سائے میں

آگ کے درمیان سے نکلا

پتھر مارو دار پہ کھینچو مرنے سے انکار نہیں

پہلو ہی میں جب سے دل ناشاد نہیں ہے

عشق پیشہ نہ رہے داد کے حقدار یہاں

بے جا نوازشات کا بار گراں نہیں

آ کے پتھر تو مرے صحن میں دو چار گرے

محبت میں زباں کی بے زبانی اب بھی ہوتی ہے

محبت میں زباں کی بے زبانی اب بھی ہوتی ہے

یہ جھاڑیاں یہ خار کہاں آ گیا ہوں میں

ایک خوبصورت شعر ، شکیب جلالی