Posts

Showing posts with the label ذوالفقار عادل

وقت گزرا ہوا ملا ہے مجھے

اندروں سے مکالمہ کیجے

دل میں رہتا ہے کوئی دل ہی کی خاطِر خاموش

گرد کوزوں سے ہٹانے کے لیے آتا ہے

سبھی کو دشت سے دریا جدا دکھائی دیا

کچھ خاک سے ہے کام کچھ اس خاک داں سے ہے

دل کی آواز سماعت کرلی

رات میں دن ملایئے

اپنی نہ کہوں تو کیا کروں میں

سو لینے دو اپنا اپنا کام کرو، چپ ہوجاؤ

مجھ کو یہ وقت وقت کو میں کھو کے خوش ہوا

ویرانے کو وحشت زندہ رکھتی ہے

روپ بدل کر جانے کس پل کیا بن جائے مائے نی

وہ مرے غم سے آشنا ہو جائے

رات گزری نہ کم ستارے ہوئے

نکلا ہوں شہر خواب سے ایسے عجیب حال میں

سارا باغ الجھ جاتا ہے ایسی بے ترتیبی سے

آخری شب ہوں شہر زاد

اک دن میں چھپا ہوا دن اک شب میں کٹی ہوئی شب

کبھی خوشبو کبھی آواز بن جانا پڑے گا