Posts

Showing posts with the label ناصر کاظمی

زباں سخن کو سخن بانکپن کو ترسے گا

یہ کون طائر سدرہ سے ہم کلام آیا

دکھ کی لہر نے چھیڑا ہوگا

کون اس راہ سے گزرتا ہے

آئینہ لے لے صبا پھر آئی

کس کے جلووں کی دھوپ برسی ہے

نصیب عشق دل بے قرار بھی تو نہیں

جرم انکار کی سزا ہی دے

اہل دل آنکھ جدھر کھولیں گے

اب ان سے اور تقاضائے بادہ کیا کرتا

مسلسل بے کلی دل کو رہی ہے

زندگی بھر وفا ہمیں سے ہوئی

جب تلک دم رہا ہے آنکھوں میں

سر میں جب عشق کا سودا نہ رہا

رنگ دکھلاتی ہے کیا کیا عمر کی رفتار بھی

ترے ملنے کو بیکل ہوگئے ہیں

ترے ملنے کو بیکل ہوگئے ہیں

شجر حجر تمھیں جھک کر سلام کرتے ہیں

تو جب میرے گھر آیا تھا

میں ہوں رات کا ایک بجا ہے