Posts

Showing posts with the label شاعری

قسمت نوع بشر تبدیل ہوتی ہے ہے یہاں

کلکتے کا نہ ذکر کروں گا میں ہم نشیں

کہاں تک سنو گے، کہاں تک سناؤں

بستیوں کو ترے دیوانے نے ویراں سمجھا

تیرے پیار کی تمنا غم زندگی کے سائے

بوندوں کی طرح چھت سے ٹپکتے ہوئے آ جاؤ

دعائیں مانگنے سے پیشتر مت بھول ملکہ

یہ کب کہا تھا کہ دردِ دل آشکار کرنا

تاریکیوں میں ہم جو گرفتار ہو گئے

ڈوبتی ناؤ تم سے کیا پوچھے

ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻤﮑﻦ ﻟﺐ ﻋﺎﺷﻖ ﺳﮯ ﺣﺮﻑ ﻣﺪﻋﺎ ﻧﮑﻠﮯ

جیسا کیسا مل جاتا ھے

تیرے لہجے کا وہ اثر ہوتے دیکھا

امت پہ تری آکے عجب وقت پڑا ہے

کڑے ہیں ہجر کے لمحات اس سے کہہ دینا

آنکھ تھی سوجی ہوئی اور رات بھر سویا نہ تھا

مدرسہ آوارگی اور ہاتھ میں بستہ نہ تھا

قتل و غارت کی گرم بازاری ہے

تھوڑا آٹا ادھار دے دو گے

مزدور کی عید