Posts

Showing posts with the label مرزا غالب

عشق نے غالبؔ نکما کر دیا

ابن مریم ہوا کرے کوئی

عجب نشاط سے جلاد کے چلے ہیں ہم آگے

بہ مہر نامہ جو بوسہ گل پیام رہا

جو نہیں جانتے وفا کیا ہے

سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں

جس جا نسیم شانہ کش زلف یار ہے

بس کہ ہے میخانہ ویراں جوں بیابان خراب

سحر گہ باغ میں وہ حیرت گلزار ہو پیدا

ہے بہاراں میں خزاں پرور خیال عندلیب

گرفتاری میں فرمان خط تقدیر ہے پیدا

سحر گہ باغ میں وہ حیرت گلزار ہو پیدا

بس کہ ہے میخانہ ویراں جوں بیابان خراب

دل میرا سوز نہاں سے بے محابا جل گیا

جگر سے ٹوٹی ہوئی ہو گئی سناں پیدا

بہ مہر نامہ جو بوسہ گل پیام رہا

تیرے چہرے سے ہو ظاہر غم پنہاں میرا

شب کہ ذوق گفتگو سے تیری دل بیتاب تھا

تنگ ظرفوں کا رتبہ جہد سے برتر نہیں ہوتا

لب خشک در تشنگی مردگاں کا