Posts

Showing posts with the label شہریار

ان آنکھوں کی مستی کے مستانے ہزاروں ہیں

دل چیز کیا ہے آپ مری جان لیجئے

دیکھتے ہی دیکھتے ہر شئے یہاں فانی ہوئی

شدید پیاس تھی پھر بھی چھوا نہ پانی کو

ہم کو جس دن نہ زمانے سے شکایت ہوگی

بند دروازوں کو جب جب دستکیں سہلائیں گی

وحشت دل تھی کہاں کم کہ بڑھانے آئے

زخموں کو رفو کرلیں دل شاد کریں پھر سے

زخموں کو رفو کرلیں دل شاد کریں پھرسے

زمین سے دور

خواب کو دیکھنا کچھ برا تو نہیں

دل میں رکھتا ہے نہ پلکوں پہ بٹھاتا ہے مجھے

کس کس طرح سے مجھ کو نہ رسوا کیا گیا

شمع دل ، شمع تمنا نہ جلا مان بھی جا