Posts

Showing posts with the label تہزیب حافی

اداس پھولوں کی پتیوں سے بنی ہوئی ہے

کچھ ضرورت سے کم کیا گیا ہے

غلط نکلے سب اندازے ہمارے

جو تیرے ساتھ رہتے ہوئے سوگوار ہو

اب اس جانب سے اس کثرت سے تحفے آرہے ہیں

بعد میں مجھ سے نہ کہنا گھر پلٹنا ٹھیک ہے

زخموں نے مجھ میں دروازے کھولے ہیں

یہ کس نے باغ سے اس شخص کو بلا لیا ہے

تیری آنکھ بنا لیتا ہوں چہرہ نہیں بنتا

دل محبت میں مبتلا ہو جائے

ہم ایک عمر اسی غم میں مبتلا رہے تھے

بچھڑ کر اس کا دل لگ بھی گیا تو کیا لگے گا

یہ کون راہ میں بیٹھے ہیں مسکراتے ہیں

تمہیں حسن پہ دسترس ہے محبت محبت بڑا جانتے ہو

پلٹ کے آئے تو سب سے پہلے تجھے ملیں گے

مری آنکھ سے ترا غم چھلک تو نہیں گیا

تری قید سے میں یونہی رہا نہیں ہو رہا

کسے خبر ہے کہ عمر بس اس پہ غور کرنے میں کٹ رہی ہے

تھوڑا لکھا اور زیادہ چھوڑ دیا

اشک ضائع ہو رہے تھے دیکھ کر روتا نہ تھا