Skip to main content

Posts

Featured

عزیز فیصل مزاحیہ اشعار

  ان حسرتوں سے کہہ دو کہیں اور جا بسیں  اسلام اباد چھوڑ دیں لاہور جا بسیں  ہوتی ہے اپنے پنڈ کے لوگوں سے وہ فری  ہم کیوں نہ اس کے پنڈ میں فی الفورجا بسیں  ۔۔۔۔ جنوری کی شدید سردی میں  ان ٹھٹھرتے ہوئے درختوں کو  او چائے پلا کے دیکھتے ہیں  ۔۔۔۔ میں ہوں محفوظ سب لٹیروں سے  اس کی بھرپور شورٹی دی جائے  منہ میں سونے کا دانت رکھتا ہوں  میرے منہ کو سکورٹی دی جائے  ۔۔۔۔۔ اگرگلی میں رقیبوں کی ہاؤ ہو ہوگی  میں سوچتا ہوں کہ ڈسٹرب کتنی تو ہوگی  جہاں ہوں پان کی نسوار کی کمیں گاہیں  وہاں پہ دانت کے کیڑوں کی کیا نمو ہو گئی  ہے مسس بہار مری بوس 10 خزاںؤں سے  براجمان وہ دفتر میں مثل لو ہو گئی  ۔۔۔۔۔ یہ جو نزلہ زکام ہوتا ہے  وائرس کا سلام ہوتا ہے  ہجر ہوتا ہے آٹھ دس ٹن کا  وصل اک دو گرام ہوتا ہے  متشاعر کے جیب میں ہر وقت  ڈھیر سارا کلام ہوتا ہے عزیز فیصل

Latest Posts

قافیہ بن گیا جیسے ہی نکالی سگریٹ

حسین تجھ پہ کہیں کیا سلام ہم جیسے

میں بعد مرنے کے نوحہ خوانی کا کیا کروں گا

میاں شعر کہنا جو آسان ہوتا

پسِ نقاب رخ لاجواب کیا ہوتا

وہ نہ جانے گیا کدھر تنہا

آپ کو دربار کی عادت ہے درباری ہیں

آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا

عشق نے غالبؔ نکما کر دیا

اس کو چھٹی نہ ملے جس کو سبق یاد رہے