Skip to main content

Posts

Featured

قافیہ بن گیا جیسے ہی نکالی سگریٹ

قافیہ بن گیا جیسے ہی نکالی سگریٹ شعر بھی ہوگیا جب میں نے لگا لی سگریٹ چل پڑا ہاتھ مرا پھر سے قلم دوڑ پڑا دوسرے ہاتھ نے جیسے ہی سنبھالی سگریٹ رات بھر چھت پہ، کبھی روڈ پہ ڈالی ہے دھمال اک چھچھورے نے پلا دی تھی دھمالی سگریٹ چھین کر ہاتھ سے درویش نے غصے میں کہا خانقاہوں میں نہیں پیتے یہ خالی سگریٹ دشمن جاں ہے مگر جان چھڑا سکتے نہیں میری بیگم کی طرح ہے یہ وبالی سگریٹ ڈاکٹر کو جو کمیشن دیں Tobacco والے پوچھ کر لکھیں گے پھر، کون سی والی سگریٹ زندگی عشق میں کچھ ایسے دھواں دھار ہوئی جا کے ڈھابے پہ کہا، ایک پیالی سگریٹ یاد آتی ہے تو میں آج بھی رو دیتا ہوں ادھ جلی، روندی ہوئی ایک سوالی سگریٹ تم تو سچ مچ میں ہی لے آئے فقیری بوٹی میں نے ازراہِ تکلف تھی نکالی سگریٹ ایک بیگم ہی نہیں، چھوڑ گئے سب محبوب ہم سے چھوٹی نہ مگر ایک یہ سالی سگریٹ چھوڑنے سے جسے ہوتا نہ کسی کو بھی قبض کاش ہوتی کوئی ایسی بھی مثالی سگریٹ ٹانگ اک ٹوٹ گئی، سر پہ لگے ٹانکے بھی جیسے تیسے مری بیگم نے چھڑا لی سگریٹ امجد علی راجا ​

Latest Posts

حسین تجھ پہ کہیں کیا سلام ہم جیسے

میں بعد مرنے کے نوحہ خوانی کا کیا کروں گا

میاں شعر کہنا جو آسان ہوتا

پسِ نقاب رخ لاجواب کیا ہوتا

وہ نہ جانے گیا کدھر تنہا

آپ کو دربار کی عادت ہے درباری ہیں

آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا

عشق نے غالبؔ نکما کر دیا

اس کو چھٹی نہ ملے جس کو سبق یاد رہے

پہنچے وہاں ہی خاک جہاں کا خمیر ہو