Posts

Showing posts with the label آشفتہ چنگیزی

دھوپ کے رتھ پر ہفت افلاک

دل کو بہلانے بہت خواب سہانے آئے

دیوار قہقہہوں کی ابھی تک ہے درمیاں

قاتل کی سازشوں میں وفا ڈھونڈتے رہے

پھر پلٹنے نکلے ہیں ساری داستانوں کو

الجھے گا جتنا اور الجھتا ہی جائے گا

ہمارے بارے میں کیا کیا نہ کچھ کہا ہوگا

پچھلے سب خوابوں کی تعبیریں بتادی جائیں گی

ہر شخص داستانوں میں بکھرا ہوا ملا

مسافتوں کے نئے بیج روز بوتے ہیں

رونے کو بہت روئے بہت آہ و فغاں کی

جستجو ہی جستجو بن جائیں گے

تمہارے شہر کے رستے عجیب رستے ہیں

کس کی تلاش ہے ہمیں کس کے اثر میں ہیں

کوئی غل ہوا تھا نہ شور خزاں

جس سے مل بیٹھے لگی وہ شکل پہچانی ہوئی

آنکھوں کے بند باب لیے بھاگتے رہے

کسے بتاتے کہ منظر نگاہ میں کیا تھا

چھوڑا ہے جس نے لاکے ہمیں اس بہاؤ تک

جس کی نہ کوئی رات ہو ایسی سحر ملے