Posts

Showing posts with the label میر تقی میر

آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا

عالم عالم عشق و جنوں ہے دنیا دنیا تہمت ہے

تھا شوق مجھے طالب دیدار ہوا میں

چمن میں گل نے جو کل دعوی جمال کیا

جھوٹے بھی پوچھتے نہیں ٹک حال آن کر

زندگی ہوتی ہے اپنی غم کے مارے دیکھیے

ظالم ہو میری جان پہ ناآشنا نہ ہو

کیا میں بھی پریشانی خاطر سے قریں تھا

کل چمن میں گل و سمن دیکھا

میرے مالک نے مرے حق میں یہ احسان کیا

دیر و حرم سے گزرے اب دل ہے گھر ہمارا

کیسی وفا و الفت کھاتے عبث ہو قسمیں

محبت کا جب زور بازار ہو گا

ﮐﻞ ﺑﺎﺭﮮ ﮨﻢ ﺳﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﻣﻼﻗﺎﺕ ﮨﻮﮔﺌﯽ

کب تک توُ امتحاں میں مجھ سے جدا رہے گا

بارہا گور دل جھنکا لایا

ہر ہر سخن پہ اب تو کرتے ہو گفتگو تم

ہمارے آگے ترا جب کسو نے نام لیا

اس عہد میں الٰہی محبت کو کیا ہوا

تجھ بن خراب و خستہ زبوں خوار ہوگئے