Posts

Showing posts with the label غلام محمد قاصر

دل کو مشکل ہوا جب اسے دیکھنا

آگ درکار تھی اور نور اٹھا لائے ہیں

اے محبت کے مؤرخ ہر حسیں کو بے وفا لکھ

نظر نظر میں ادائے جمال رکھتے تھے

ملنے کی ہر آس کے پیچھے ان دیکھی مجبوری تھی

کتاب آرزو کے گم شدہ کچھ باب رکھے ہیں

محبت کی گواہی اپنے ہونے کی خبر لے جا

کشتی بھی نہیں بدلی دریا بھی نہیں بدلا

لب پہ سرخی کی جگہ جو مسکراہٹ مل رہے ہیں

گلابوں کے نشیمن سے مرے محبوب کے سر تک

عکس کی صورت دکھا کر آپ کا ثانی مجھے

سینہ مدفن بن جاتا ہے جیتے جاگتے رازوں کا

سوتے ہیں وہ آئینہ لے کر خوابوں میں بال بناتے ہیں

سوئے ہوئے جذبوں کو جگانا ہی نہیں تھا

ساون کی سہانی رات بھی ہے برسات بھی ہے

سب رنگ ناتمام ہوں ہلکا لباس ہو

رات کا ہر اک منظر رنجشوں سے بوجھل تھا

رات اس کے سامنے میرے سوا بھی میں ہی تھا

ذہن میں دائرے سے بناتا رہا دور ہی دور سے مسکراتا رہا

خاموش تھے تم اور بولتا تھا بس ایک ستارہ آنکھوں میں