Posts

Showing posts with the label کلیم عاجز

آشنا غم سے ملا راحت سے بیگانہ ملا

کس طرح کوئی دھوپ میں پگھلے ہے جلے ہے

امتحان شوق میں ثابت قدم ہوتا نہیں

چمن اپنا لٹا کر بلبل ناشاد نکلی ہے

وہ ستم نہ ڈھائے تو کیا کرے اسے کیا خبر کہ وفا ہے کیا

ہم کو یہ زمانے کی ادا یاد رہے گی

جہاں غم ملا اٹھایا پھر اسے غزل میں ڈھالا

جس پر بھی جوانی آتی ہے اور تھوڑا جمال آجاتا ہے

بے کلی ہے اور دل ناشاد ہے

ان کی زلفوں میں جتنی شکن چاہیے

مجھے اس کا کوئی گلہ نہیں کہ بہار نے مجھے کیا دیا

ہم نے بے فائدہ چھیڑی غم ایام کی بات 

امتحان شوق میں ثابت قدم ہوتا نہیں 

زخموں کے نئے پھول کھلانے کے لئے آ 

بڑی طلب تھی بڑا انتظار دیکھو تو

یہ سمندر ہے کنارے ہی کنارے جاؤ

جہاں غم ملا اٹھایا پھر اسے غزل میں ڈھالا

تجھے سنگ دل یہ پتہ ہے کیا کہ دکھے دلوں کی صدا ہے کیا

وہ ستم نہ ڈھائے تو کیا کرے اسے کیا خبر کہ وفا ہے کیا

مرا حال پوچھ کے ہم نشیں مرے سوز دل کو ہوا نہ دے