Posts

Showing posts with the label شاہد زکی

میں تری راکھ سے ایجاد کروں گا خود کو

تیری مرضی کے خد و خال میں ڈھلتا ہوا میں

یاد بکھری ہے کہ سامان تمہارا مجھ میں

رکھیے شغف روایتوں کے سلسلے سے بھی

اگر دونوں طرف سورج ترازو میں نہیں ہوتا

دشت طغیانی سیلاب میں موجود رہا

دستک حرص پہ دروازہء شر کھلتا ہے

میں اپنے حصے کی تنہائی محفل سے نکالوں گا 

نہ کسی اسم نہ منتر سے نہ جادو سے ہوئی

یار بھی راہ کی دیوار سمجھتے ہیں مجھے

کسی کے ساتھ سفر اختیار کرتے ہوئے

آخری بار اسے ملنا ہے بچھڑنے کے لیے

کیا نمو کار ہے کیا اجر نمو مانگتا ہے