Posts

Showing posts with the label پروفیسر اقبال عظیم

نقش ماضی کے جو باقی ہیں مٹا مت دینا

ہم سے وفا کے بارے میں جو چاہے پوچھ لو

سوز دل چاہیے چشم نم چاہیے اور شوق طلب معتبر چاہیے

فاصلوں کو تکلف ہے ہم سے اگر ہم بھی بے بس نہیں بے سہارا نہیں

جہاں روضہء پاک خیر الوریٰ ہے وہ جنت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے​

نعت میں کیسے کہوں ان کی رضا سے پہلے

کھلا ہے سبھی کے لیے باب رحمت وہاں کوئی رتبے میں ادنیٰ نہ عالی

حضور آئے تو کیا کیا ساتھ نعمت لے کے آئے ہیں

مجھے اپنے ضبط پہ ناز تھا سر بزم رات یہ کیا ہوا

زہر دے دے نہ کوئی گھول کے پیمانے میں

وہ یوں ملا کہ بظاہر خفا خفا سا لگا 

مدینے کا سفر ہے اور میں نم دیدہ نم دیدہ

مانا کہ زندگی سے ہمیں کچھ ملا بھی ہے

کچھ ایسے زخم بھی در پردہ ہم نے کھائے ہیں

یہ مری انا کی شکست ہے نہ دوا کرو نہ دعا کرو​

ﺗﻢ ﻏﯿﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﮨﻨﺲ ﮨﻨﺲ ﮐﮯ ﻣﻼﻗﺎﺕ ﮐﺮﻭ ﮨﻮ

اک خطا ہم از رہ سادہ دلی کرتے رہے

جانے گھر سے کوئی گیا ہے گھر سونا سونا لگتا ہے

یہ مری انا کی شکست ہے نہ دوا کرو نہ دعا کرو

مجھ میں لفظوں کو برتنے کا سلیقہ ہی نہیں ہے شاید