Posts

Showing posts with the label قیصر الجعفری

چاندنی تھی کہ غزل تھی کہ صبا تھی کیا تھا

یادوں کا ایک جھونکا آیا ہم سے ملنے برسوں بعد

زخموں کو مرہم کہتا ہوں قاتل کو مسیحا کہتا ہوں

یوں بڑی دیر سے پیمانہ لیے بیٹھا ہوں

دن کی بے درد تھکن چہرے پہ لے کر مت جا

اتنا سناٹا ہے بستی میں کہ ڈر جائے گا

ہوا بہت ہے متاع سفر سنبھال کے رکھ

میں ہزار بار چاہوں کہ وہ مسکرا کے دیکھے

چاندنی تھی کہ غزل تھی کہ صبا تھی کیا تھا