Posts

Showing posts with the label جواد شیخ

سب کو بچاو خود بھی بچو فاصلہ رکھو

یہ وہم جانے میرے دل سے کیوں نکل نہیں رہا

ٹوٹنے پر کوئی آئے تو پھر ایسا ٹوٹے

آپ جیسوں کے لیے اس میں رکھا کچھ بھی نہیں

اس کی پسند کافی ہے چائے تو ہے نہیں

سب یہ تو مانتے ہیں کہ دل کی بری نہیں

درگزر جتنا کیا ہے وہی کافی ہے مجھے

میں نے چاہا تو نہیں تھا کہ کبھی ایسا ہو

عام سا فن تو کوئی ہے نہیں تحفہ دینا

ادھر یہ حال کہ چھونے کا اختیار نہیں

ہماری خامشی ہوتی ہے دیکھنے والی

کہاں ہٹتا ہے نگاہوں سے ہٹائے ہائے

تو کیا اک ہمارے لیے ہی محبت نیا تجربہ ہے