Posts

Showing posts with the label افتخار عارف

بکھر جائیں گے کیا ہم جب تماشا ختم ہو گا

پتہ نہیں کیوں

مدینہ و نجف و کربلا میں رہتا ہے

مدینے کی طرف جاتے ہوئے گھبرا رہا تھا

مدحت شافع محشر پہ مقرر رکھا

عہد میثاق ازل خلق میں دہراتا کون

رب کعبہ کی طرف اذن و عنایت سے گیا

تم سے بچھڑ کر زندہ ہیں

حبس شب ہو تو اجالے بھی ترے شہر سے آئیں

گلی کوچوں میں ہنگامہ بپا کرنا پڑے گا

ہم اہل جبر کے نام و نسب سے واقف ہیں

سمجھ رہے ہیں اور بولنے کا یارا نہیں

وحشت کا اثر خواب کی تعبیر میں ہوتا

عذاب وحشت جاں کا صلہ نہ مانگے کوئی

فضا میں رنگ نہ ہوں آنکھ میں نمی بھی نہ ہو

غیروں سے داد جور و جفا لی گئی تو کیا

میرا شرف کہ تو مجھے جواز افتخار دے

ہم تو دیوانے ہیں رمزیں نہ کنایہ جانیں

بستی بھی سمندر بھی بیاباں بھی میرا ہے

ہجر کی دھوپ میں چھاؤں جیسی باتیں کرتے ہیں