Posts

Showing posts with the label جہانزیب ساحر

کنار آب کھڑے اس طرح نہ گن مرے دوست

جنوں میں مست بھی سونے لگے سکون کی نیند

نور سے نور ، نور نور ہوا

ادنیٰ سی رعایت میں بھی ناکام رہا ہو

ادھر ادھر بھی ہزاروں کلیاں کھلی ہوئی ہیں

یار جو کچھ بھی ہے قصہ مختصر دل نہیں لگ رہا

بارش کی ہر اک بوند سے اس گیلے بدن پر

عجیب سے خمار میں پڑا رہا مَرا رہا

مری بساط میں جو تھا وہ سارا غم لگا دیا

اپنے اپنے غموں کو روتے ہیں

قابل نہیں تو کیا ہوا عزت مآب ہے

اس خرابے سے کہیں دور نکلنے کے لیے

درون ذات رسائی کا مشورہ دیتا

دیر سے اہلیان جاگے ہیں

اس طرف ہم نے کبھی دھیان نہیں کرنا ہے

کئی دنوں سے مروت نہیں ہوئی مجھ سے

پیش خیمہ یہ کسی ایک مصیبت کا نہیں

بڑے خلوص سے اپنا بنا لیا تھا مجھے

پرانے زخم پہ مرہم نیا لگاتے ہوئے

مجھ سے اس عشق کے دوران ہوا تھا جتنا