Posts

Showing posts with the label ساقی فاروقی

دامن میں آنسوؤں کا ذخیرہ نہ کر ابھی

مٹی تھی خفا موج اٹھا لے گئی ہم کو

موت نے پردا کرتے کرتے پردا چھوڑ دیا

وہ آگ ہوں کہ نہیں چین ایک آن مجھے

وقت ابھی پیدا نہ ہوا تھا تم بھی راز میں تھے

وحشت دیواروں میں چنوا رکھی ہے

میں کھل نہیں سکا کہ مجھے نم نہیں ملا

میں کسی جواز کے حصار میں نہ تھا

میں وہی دشت ہمیشہ کا ترسنے والا

ہراس پھیل گیا ہے زمین دانوں میں

وہی آنکھوں میں اور آنکھوں سے پوشیدہ بھی رہتا ہے

وہ لوگ جو زندہ ہیں وہ مرجائیں گے اک دن

وہ سخی ہے تو کسی روز بلا کر لے جائے

وہ دکھ جو سوئے ہوئے ہیں انہیں جگادوں گا

یہ کون آیا شبستاں کے خواب پہنے ہوئے

یہیں کہیں پہ کبھی شعلہ کار میں بھی تھا

یہ کس نے بھرم اپنی زمیں کا نہیں رکھا

یوں مرے پاس سے ہو کر نہ گزر جانا تھا

ہیں سحر مصور میں قیامت نہیں کرتے

مجھ کو مری شکست کی دوہری سزا ملی