Posts

Showing posts with the label ghazal

دریا کا بہاو دیکھتے ہیں

صبا کا نرم سا جھونکا بھی تازیانہ ہوا

نِگاہِ شوق سے کب تک مُقابلہ کرتے

نیند بیچی جا رہی ہے کاروبار خواب ہے

زہے شرف ترے در پر بسر زمانہ ہوا

میں بِرہا کی نار جسے ہر پانی راس نہیں

زندگی نے جھیلے ہیں سب عذاب دنیا کے 

کس کرب میں ہم ہیں یہ بتا بھی نہیں سکتے

بڑا کھٹن ہے راستا، جو آسکو تو ساتھ دو

میں تو جو بھی لِکھتا ہوں، دِل کیساتھ لِکھتا ہُوں

جو چراغ سارے بجھا چکے انہیں انتظار کہاں رہا

اس قدر غم ہے کہ اظہار نہیں کر سکتے 

میری راہوں میں کئی مرحلے دشوار آئے 

تری گلی میں تماشا کیے زمانہ ہوا 

کھلے دلوں سے ملے فاصلہ بھی رکھتے رہے 

پڑے اس عشق میں جینے کے لالے

بھولے سے بھی لب پر سخن اپنا نہیں آتا

کہہ رہی ہے ساری دنیا تیرا دیوانہ مجھے 

آنکھوں میں کل کے خواب ہیں ، خوش خواب تتلیاں

سوکھے ہونٹ، سلگتی آنکھیں، سرسوں جیسا رنگ