دریا کا بہاو دیکھتے ہیں
دریا کا بہاو دیکھتے ہیں
اور اپنا کٹاو دیکھتے ہیں
ہم ایسے غلام پھر نہ ہوں گے
جو جیسا دکھاو دیکھتے ہیں
بھائی تو خرید لیں گے دنیا
فی الحال تو بھاو دیکھتے ہیں
ہنستے ہوئے دو کنارے اکثر
اک ڈوبتی ناو دیکھتے ہیں
ہم کو بھی دکھاو نقشِ رفتہ
ہم بھی تو ہواو دیکھتے ہیں
احسان اصغر
Comments
Post a Comment