تو زبان دلی و لاہور کا پروردگار

تو زبان دلی و لاہور کا پروردگار
میں سکوت گلگت و اسکردو و پارہ چنار
بکریاں روز ازل سے کوہ کی رستہ شناس
اے سنہری زین والے نقرئی رتھ کے سوار
گلشن اظہار کے دو، خسرو و سر مست پھول
رنگ سے روشن زمین ہند از تا کوہ سار
یار ہم دو مختلف دنیاؤں کے تشریح گر
تو کسی فرقے کا شاعر، میں لسان کردگار
انگلیوں میں روشنی دیتے زمرد کے چراغ
مرمریں بازو کا حلقہ، سرخ یاقوتی حصار
روشنی تاریک رستے سے زمیں تک آ گئی
بیج کو شوق نمو نے کر دیا ہے آشکار
احمد جہانگیر

Comments