Posts

Showing posts with the label فراق گورکھپوری

مشیّت برطرف کیوں حالت انساں بتر ہوتی

غزل کے ساز اٹھاؤ بڑی اُداس ہے رات

مجھ کو مارا ہے ہر اک درد و دوا سے پہلے

تم کو دیکھیں کہ تم سے بات کریں

زندگی ہے تیرے جانے کی قسم

فسردہ پا کے محبت کو مسکرائے جا

نہ جانے آج اہل شوق کیوں بیٹھے ہیں گم سم سے

دیتے ہیں جام شہادت مجھے معلوم نہ تھا

ہجر و وصال یار کا پردہ اٹھا دیا

وقت غروب آج کرامات ہو گئی

دیکھنے والے ترے آج بھی بیدار سے ہیں

تم تو چپ رہنے کو بھی رنجش بے جا سمجھے

یوں تو نہ چارہ کار تھا جان دیے بغیر بھی

سر میں سودا بھی نہیں دل میں تمنا بھی نہیں

نہ تو حیراں وہ ہوئے ہیں نہ وہ حیراں ہوں گے

سنتے ہیں عشق نام کے گزرنے ہیں اک بزرگ

دل بڑھ گیا ہے پاؤں میں زنجیر دیکھ کر

دور آغاز جفا دل کا سہارا نکلا

کچھ اشارے تھے جنہیں دنیا سمجھ بیٹھے تھے ہم

بستیاں ڈھونڈھ رہی ہیں انہیں ویرانوں میں