Posts

Showing posts with the label جون ایلیا

زلف پیچاں کے خم سنوارے ہیں

کتنا خاموش ہوں میں اندر سے

تم میرا دکھ بانٹ رہی ہو اور میں دل میں شرمندہ ہوں

سر صحرا حباب بیچے ہیں

تم میرا دکھ بانٹ رہی ہو اور میں دل میں شرمندہ ہوں

اب سبھی کو سبھی سے خطرہ ہے

کب پتا یار کو ہم اپنے لکھا کرتے ہیں

کبھی جب مدتوں کے بعد اس کا سامنا ہوگا

اسی میں ہو چکا اب کیا نہ چاہوں

یارو نگہ یار کو یاروں سے گلہ ہے​

ساری دنیا کے غم ہمارے ہیں

شانوں پہ کس کے اشک بہایا کریں گی آپ

ایک ہی مژدہ صبح لاتی ہے

ہمراہ کچھ جنوں کے رسالے ہوئے تو ہیں

کام کی بات میں نے کی ہی نہیں

ذکر گل ہو خار کی باتیں کریں

ستم شعار نشانے تلاش کرتے ہیں

مہک اٹھا ہے آنگن اس خبر سے

دل نے وحشت گلی گلی کر لی

کس سے اظہار مدعا کیجے