ایک ہی مژدہ صبح لاتی ہے

ایک ہی مژدہ صبح لاتی ہے
صحن میں دھوپ پھیل جاتی ہے

سوچتا ہوں کہ تیری یاد آخر
اب کسے رات بھر جگاتی ہے
رنگ موسم ہے اور بادِ صبا
شہر کوچوں میں خاک اُڑاتی ہے

فرش پہ کاغذ پر اُڑتے پھرتے ہیں
میز پر گرد جمتی جاتی ہے

میں بھی اِذنِ نوا گری چاہوں
بے دلی بھی تو لب ہلاتی ہے

آپ اپنے سے ہم سخن رہنا
ہمنشیں! سانس پھول جاتی ہے

آج اِک بات تو بتاؤ مجھے
زندگی خواب کیوں دکھاتی ہے


 کیا ستم ہے کہ اب تیری صورت
غور کرنے پر یاد آتی ہے

کون اس گھر کی دیکھ بھال کرے
روز اِک چیز ٹوٹ جاتی ہے

جونؔ ایلیا

Comments