بپا یہ ظلم کسی حال میں نہیں کرتے

بپا یہ ظلم کسی حال میں نہیں کرتے
گھروں کے فیصلے چوپال میں نہیں کرتے

ہمارے ہاتھ کی ریکھاؤں میں خلل ہوگا
پرندے دھوکہ اگر فال میں نہیں کرتے

محبت اپنی جگہ بام و در سے میرے عزیز
مگر یہ تجربہ بھونچال میں نہیں کرتے

ہم اپنی نیکی سمجھتے تو ہیں تجھے لیکن
شمار نامہ اعمال میں نہیں کرتے



ہمارے ظاہری احوال پر نہ جا ہم لوگ
قیام اپنے خدوخال میں نہیں کرتے

یہ رات جتنے فسانوں کی مرتکب ہے فراغ
گناہ اتنے تو ہم سال میں نہیں کرتے
اظہر فراغ

Comments