Posts

Showing posts with the label احمد مشتاق

ایک کونے میں سر کو جھکائے ہوئے درد کی شمع افسردہ جلتی رہی

کہاں کی گونج دل ناتواں میں رہتی ہے

دل میں کہیں سراغِ نشاط و الم نہیں

لفظوں کے سراب سے نکل جا

منہ سوئے فلک ہے بھونکتا ہوں

بدن نزار ہوا دل ہوا نڈھال مرا

دہلیز پہ چاندنی کھڑی ہے

وہ لڑکپن کے دن وہ پیار کی دھوپ

شام غم یاد ہے کب شمع جلی یاد نہیں

یہ کس ترنگ میں ہم نے مکان بیچ دیا

مرے اندر کوئی شئے مائل فریاد رہتی ہے

اسی جزیرۂ جنت نشان ہی میں رہے

دل میں شور برابر ہے

بہت رک رک کے چلتی ہے ہوا خالی مکانوں میں

اک پھول میرے پاس تھا اک شمع میرے ساتھ تھی

ان موسموں میں ناچتے گاتے رہیں گے ہم

شک دامن میں بھرے خواب کمر پر رکھا

یہ تنہا رات یہ گہری فضائیں

چاند بھی نکلا ستارے بھی برابر نکلے

وہ بھی ہوئے خراب محبت جنہوں نے کی