Posts

Showing posts with the label امیر مینائی

اس در پہ آبرو نہیں جاتی سوال سے

ایک دل ہمدم مرے پہلو سے،ل کیا جاتا رہا

منہ پھر نہ کر وطن کی طرف یوں وطن کو چھوڑ

وہ تو سنتا ہی نہیں میں داد خواہی کیا کروں

دل نے جب پوچھا مجھے کیا چاہئے

سر راہ عدم گور غریباں طرفہ بستی ہے

دامنوں کا نہ پتہ ہے نہ گریبانوں کا

جو کچھ سوجھتی ہے نئی سوجھتی ہے

شوق خلوت میں بھی ہے انجم آرائی کا

دل آپ پر تصدق جاں آپ پر سے صدقے

حکمران وہ ہے جو ہے بندہ ان کا

بازو در عرفاں کا ہے بازوئے محمد

بن آئی تیری شفاعت سے رو سیاہوں کی

اس آفتاب رخ سے اگر ہوں دو چار پھول

آنسو مری آنکھوں میں نہیں آئے ہوئے ہیں

خلق کے سرور شافع محشر صلی اللہ علیہ و سلم

حلقے میں رسولوں کے وہ ماہ مدنی ہے

دل میں ہے خیال رخ نیکوئے محمد

عشق میں جاں سے گزرے ہیں گزرنے والے

میت پہ آ کے پوچھتے ہیں ان کو کیا ہوا ، امیر مینائی