شوق خلوت میں بھی ہے انجم آرائی کا

شوق خلوت میں بھی ہے انجم آرائی کا
آئینہ خانہ ہے گوشہ مری تنہائی کا

عین سجدے میں میسر ہے نظارہ اس کا
چشم بینا ہے کہ داغ اپنی جبیں سائی کا

جس نے دیکھا ہے تجھے دیکھتے ہیں سب اس کو
خلق ہے جمع، تماشا ہے تماشائی کا



شوق سے تیغ لگاؤ مجھے لیکن ہے یہ ڈر
خندۂ زخم ڈھنڈھورا نہ ہو رسوائی کا

دل مرا سینے میں کیا اب تو دو عالم میں نہیں
چل دیا بن کے خیال اس بت ہرجائی کا

کوئی آتا نہیں مجھ تک جو بجز یادِ خدا
لا مکاں گوشہ ہے شاید مری تنہائی کا

شوق دیدار میں اٹھتی ہے جو ہر وقت نگاہ
ناتواں میں، انہیں شبہ ہے توانائی کا

ٹال جاتے ہیں مجھے دیکھ کے وہ خلق کہاں
رنگ ہے مفلس و معنم کی شناسائی کا

سر شب و روز جو وحشت سے ہے چکر میں امیر
یہ بھی ہے شاید قدم اس بت ہرجائی کا

امیر مینائی

Comments