کون و مکاں کی ساری خبر مجھ سے لیجیے
میں آئینہ ہوں عکس کی رفتار سے بھی تیز
کون و مکاں کی ساری خبر مجھ سے لیجیے
جنسِ وفا جہان میں بدنام ہو چکی
پھر بھی زہے نصیب اگر مجھ سے لیجیے
سب کچھ لٹا کے بھی تہی داماں نہیں ہوا
یہ آسماں یہ شمس و قمر مجھ سے لیجیے
گرچہ بہت زیاں ہے مگر کاروبار ہے
میں خواب گر ہوں خواب نگر مجھ سے لیجیے
بے نام راحتوں کی مسافت کے انت پر
سب رنج ہے سو رنجِ سفر مجھ سے لیجیے
ڈاکٹر محمد کامران

Comments
Post a Comment