مل گیا تو مجھے میرا نہیں رہنے دے گا

مل گیا تو مجھے میرا نہیں رہنے دے گا
وہ سمندر مجھے قطرہ نہیں رہنے دے گا
مجھ کو معلوم تھا آسانی سے کھلتا ہوا در
واپسی کے لئے رستہ نہیں رہنے دے گا
اس کو شک ہے کہ بھنور سے ہیں مراسم میرے
اب وہ پانی پہ سفینہ نہیں رہنے دے گا
لمحہ بھر کارِ جہاں بچھڑے ہوئے یاروں کو
جوڑ بھی دے گا تو یکجا نہیں رہنے دے گا
حسبِ حاصل کہیں موجود نہ ہونا میرا
سب کا ہو کر بھی کسی کا نہیں رہنے دے گا
تو جو حق میں مرے تلوار بنا پھرتا ہے
رہنے بھی دے گا مجھے یا نہیں رہنے دے گا

اظہر فراغ

Comments