Posts

Showing posts with the label سلیم کوثر

پوچھنے والے تجھے کیسے بتائیں آخر

پیاس بھی ہم ہیں پیاس بجھانے والے بھی ہم

کس گھاٹ اترنا تھا لب جو نکل آئے

بہت دنوں میں کہیں ہجر ماہ و سال کے بعد

اس کے بعد اور ابھی سخت مقام آئے گا

دکھائی کچھ نہیں دیتا نگاہ ہوتے ہوئے

بارش میں تنہا بھیگو، یا بھیگو یار کے ساتھ

قربتیں ہوتے ہوئے بھی فاصلوں میں قید ہیں

ستم کی رات کو جب دن بنانا پڑتا ہے

ذرا سی دیر کو منظر سہانے لگتے ہیں

بدل گیا ہے سبھی کچھ اس ایک ساعت میں

بنام دل فگاراں کج ادا آتی رہے گی

اب اس کے بعد کوئی رہگزر عزیز نہیں

یاد کرنے پہ نہ یاد آئیں زمانے ہو جائیں

اک دعا نے بچا لیا ہے ہمیں

آب و گل کے زخم لے کر موسموں کے پیار سے

ملنا نہ ملنا ایک بہانہ ہے اور بس 

وہ سارے سمے جو بیت گئے

پھر مت کہنا کہ بتایا نہیں کوئی سننے والا ہے کہ نہیں

زخم احساس اگر ہم بھی دکھانے لگ جائیں