Posts

Showing posts with the label اسعد بدایونی

وقت اک دریا ہے دریا سب بہالے جائے گا

خواب بچوں کی محبت سے زیادہ تو نہیں

اس شہر عزت داراں میں ہم مال ومنال نہیں رکھتے

اب احمق داناؤں جیسی باتیں کرتے ہیں

سیل گریہ کا سینے سے رشتہ بہت

دریچے طاقچے سننے کا لطف اٹھاتے ہوئے

کچھ جذبے اورجنون لیے مایوس وملول سے رہتے ہیں

سچ بول کے بچنے کی روایت نہیں کوئی

ترا چراغ مرا دل بجھانا چاہتے ہیں

حریف کوئی نہیں دوسرا بڑا میرا

مرے چراغ کو یہ وہم کھائے جاتا ہے

وہ جب ملا تو کسی رنج رائیگاں میں ملا

نہ کوئی صبح فراق اور نہ کوئی شام وصال

وہ آدمی جو تری آرزو میں مرتا ہے

ابھی دریچہ دل سے ہوا ہے کتنی دور

کس نے کوئی سچ لکھاہے یہ فقط الزام ہے

مرے لوگ خیمہ صبر میں مرے شہر گرد ملال میں

مرے ریگ زار میں اس برس یہ کمال موج بلا کاتھا

مجھے نظر سے تجھے شاخ سے گرا بھی گئے

طناب خیمہ جاں ٹوٹنے ہی والی ہے