نہ کوئی صبح فراق اور نہ کوئی شام وصال
نہ کوئی صبح فراق اور نہ کوئی شامِ وصال
چمک کے بجھ گئے آخر سبھی طرح کے خیال
مرے شجر پہ نہ اترا کوئی حسیں طائر
بدل گئے کئی موسم گزرگئے کئی سال
بس ایک جنبش لب داستان سے آگے
بس اک نگاہ نے پیدا کیے بہت سے سوال
ترے سفر پہ روانہ کبھی ہواتھا میں
یہ دیکھ سر میں ابھی تک جمی ہے گردِ ملال
ترے وصال کی خوشبو تلک تھیں سب باتیں
سو دل میں اب نہیں آتا بغاوتوں کاخیال
اسعد بدایونی

Comments
Post a Comment