Posts

Showing posts with the label کلاسیکی غزلیں

دل کرے گا نہ خیال رخ جاناں خالی

کیا چیز تھی کیا چیز تھی ظالم کی نظر بھی

دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے

جوش پر تھیں صفت ابر بہاری آنکھیں

جلوہ دکھلائے جو وہ اپنی خود آرائی کا

پھر وہی ہم ہیں خیال رخ زیبا ہے وہی

یاد میں تیری جہاں کو بھولتا جاتا ہوں میں

اور کچھ لوگ بھی دیوانہ بنا دیتے ہیں

دشمن بھی اپنے دوست سے یا رب جدا نہ ہو

نہ کریدوں عشق کے راز کو مجھے احتیاطِ کلام ہے

اس ادا سے مجھے سلام کیا

اک جان کا زیاں ہے سو ایسا زیاں نہیں

سبھوں سے یوں تو ہے دل آپ کا خوش

کہ ماہ عید بھی آخر ہے ان مہینوں میں

نیچی نظروں کے وار آنے لگے

دکھاتا ہے مرا دل بے الف رے