Posts

Showing posts with the label راحت اندوری

مجھ میں کتنے راز ہیں بتاؤں کیا

کالی راتوں کو بھی رنگین کہا ہے میں نے

کبھی دماغ کبھی دل کبھی نظر میں رہو

اگر خلاف ہیں ہونے دو جان تھوڑی ہے

جھوٹوں نے جھوٹوں سے کہا ہے سچ بولو

روز تاروں کو نمائش میں خلل پڑتا ہے

زندگی بھر دور رہنے کی سزائیں رہ گئیں

کام سب غیر ضروری ہیں جو سب کرتے ہیں

میرے کاروبار میں سب نے بڑی امداد کی

گھر سے یہ سوچ کہ نکلا ہوں کہ مر جانا ہے

کہاں وہ خواب محل تاج داریوں والے

دئے جلائے تو انجام کیا ہوا میرا

اس کی کتھئی آنکھوں میں ہے جنتر منتر سب

میرے حجرے میں نہیں اور کہیں پر رکھ دو

اجنبی خواہشیں سینے میں دبا بھی نہ سکوں

دلوں میں آگ لبوں پر گلاب رکھتے ہیں

سلا چکی تھی یہ دنیا تھپک تھپک کے مجھے

آنکھ میں پانی رکھو ہونٹوں پہ چنگاری رکھو

نہ ہم سفر نہ کسی ہم نشیں سے نکلے گا

تمہارے نام پر میں نے ہر آفت سر پہ رکھی تھی