Posts

Showing posts with the label شیخ ابراہیم ذوق

شبنم کی طرح سے ہمیں رونا نہیں آتا

اسے ہم نے بہت ڈھونڈا نہ پایا

خوب روکا شکایتوں سے مجھے

کیا غرض لاکھ خدائی میں ہوں دولت والے

آنکھوں میں آ کے ٹھہرا ہے غم انتظار کا

اے ذوقؔ وقت نالے کے رکھ لے جگر پہ ہاتھ

بزم میں ذکر مرا لب پہ وہ لائے تو سہی

اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے

کسی بیکس کو اے بیداد گر مارا تو کیا مارا

لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے

اس نے مارا رخ روشن کی دکھا تاب مجھے

شیخ ابراہیم ذوق شعر

تیرے آفت زدہ جن دشتوں میں اڑ جاتے ہیں