Posts

Showing posts with the label فرحت عباس شاہ

مجھے لگ رہا ہے کہ جال آئے گا موت کا

سمے سمے کی خلش میں تیرا ملال رہے

لاکھ دوری ہو مگر عہد نبھاتے رہنا

کبھی سحر تو کبھی شام لے گیا مجھ سے

ہم کو معلوم ہے اس بات پہ سر لگتا ہے

بے چین مزاجی میں عجب کچھ بھی نہیں تھا

مجھ سے مل کر تیرے چہرے پہ اجالے پڑ جائیں

نہ رنگ روپ کی طرح نہ خد و خال کی طرح

ہاں یہ ہو گا کہ ذرا دل کو سنبھالے دے گا

روح پہ اب افتاد کوئی آئے تو گھبرا جاتی ہے

آپ مت کہیے مری آہ کے نم کو کچھ بھی

کبھی سڑکیں تو کبھی ریل مسلط کرکے

بہت مسلے گی پیسے گی بھی ، توڑے گی محبت

سب راستے دشمن ہوئے اشجار مخالف

گر دعا بھی کوئی چیز ہے تو دعا کے حوالے کیا

جو اس کے چہرے پہ رنگ حیا ٹھہر جائے

اداس شامیں اجاڑ رستے کبھی بلائیں تو لوٹ آنا