Posts

Showing posts with the label قمر جلالوی

پسِ نقاب رخ لاجواب کیا ہوتا

وہ مہتمم ہیں جہاں بھی گئے دیوانے

اے میرے ہمنشیں چل کہیں اور چل اس چمن میں اب اپنا گزارا نہیں

اب کیسے رفو پیراہن ہو اس آوارہ دیوانے کا

نشاں کیونکر مٹا دیں یہ پریشانی نہیں جاتی

مریض محبت انہی کا فسانہ سناتا رہا دم نکلتے نکلتے

کسی کا نام لو بے نام افسانے بہت سے ہیں

دونوں ہیں ان کے ہجر کا حاصل لیئے ہوئے

نہ طے کرتا تو رہتا قصۂ تیغوں گلوں برسوں

نہ روکی برق تو نے آشیاں بدلے چمن بدلے

نہ طے کرتا تو رہتا قصۂ تیغوں گلوں برسوں

غلط ہے شیخ کی ضد ساقی محفل سے ٹوٹے گی

کس یاس سے مرے ہیں مریض انتظار کے

بھلا اپنے نالوں کی مجھ کو کیا خبر کیا شبِ غم ہوئی تھی کہاں تک رسائی

ان کی طرف سے ترک ملاقات ہو گئی

ترے نثار نہ دیکھی کوئی خوشی میں نے

تجھ سے پہلے کوئی شے حق نے نہ اصلا دیکھی

وہ نہ آئیں گے کبھی دیکھ کے کالے بادل

مجھے باغباں سے گلہ یہ ہے کہ چمن سے بے خبری رہی

نہ جاؤ گھر ابھی تو رات ہے بادل بھی کالے ہیں