Posts

Showing posts with the label نئے شعراء کرام

خدا کرے کہ تمہارا بھی کوئی یوسف ہو

چلو آؤ بہانے سے دلوں کا میل دھو ڈالیں

بڑھیا تجھ کو حور دکھایا جا سکتا ہے

اکیلے بیٹھ کے اب ہاتھ ملتے رہتے ہیں

عشق کے غار سے نکل آیا

شرابی نہیں تھی وہ آنکھیں کہیں سے

سنگ کی طرح سماعت پہ ہنسی لگتی ہے

شہزادی نے کھیل ادھورا چھوڑ دیا ہے

میرے سر پر سوار تھوڑی ہے

گر ہمیں تیرا سہارا ہے، خدا جانتا ہے

ملا تھا کیسے بچھڑ گیا ہے یہ بات چھوڑو

اس میں موجود خزینے سے محبت ہے میاں

کھیت ایسے سیراب نہیں ہوتے بھائی

کھیت ایسے سیراب نہیں ہوتے بھائی

کیسی بخشش کا یہ سامان ہوا پھرتا ہے

کیا کہوں کیوں فکر کی بے رہ روی کھلتی نہ تھی

کیا کہوں کیوں فکر کی بے رہ روی کھلتی نہ تھی

ہمیں تو حکم مجاوری ہے

حضور عشق حکایت نہیں پہاڑا ہے

کھڑکھڑائیں تعلق کی بیساکھیاں چند ماتھوں پہ مہتاب ٹانکے گئے