کیا کہوں کیوں فکر کی بے رہ روی کھلتی نہ تھی
کیا کہوں، کیوں فکر کی بے رہ روی کھُلتی نہ تھی
پہلے پہلے یہ گرہ بھیدوں بھری کھُلتی نہ تھی
میری نا آسودگی یہ تھی کہ خلوت گاہ میں
مجھ پہ اُس کے پَر تو کھلتے تھے، پری کھُلتی نہ تھی
آنکھ پر منظر کی حیرت بند تھی، سو اُن دنوں
آئنے پر عکس کی غارت گری کھُلتی نہ تھی
پھر میں سناٹوں کے اتنے شور سے تنگ آ گیا
اس سے پہلے مجھ پہ ایسی خامشی کھُلتی نہ تھی
آئنہ خانہ تھا ، اور اک آئنے کے سامنے
میں کھڑا تھا ، پر مری موجودگی کُھلتی نہ تھی
پھر تری تصویر نے یہ راز افشا کر دیا
ورنہ اس دیوار کی بوسیدگی کُھلتی نہ تھی
سید میثم نقوی
Comments
Post a Comment