بے شکلوں کو چہرے دینے والی ذات 

بے شکلوں کو چہرے دینے والی ذات 
تیرے آگے مجھ فانی کی کیا اوقات

داد ہے سارے جنگل کی نگرانی پر 
گنے نہیں جاتے مجھ سے اک پیڑ کے پات

اب میں تجھ سے کہتا اچھا لگتا ہوں 
تیری ہی تو پیدا کردہ ہیں حاجات

تیرے حضور دعا پر قدغن تھوڑی ہے 
کرے کشادہ چاہے کوئی جتنے ہاتھ

علم و حکمت جو بھی خاک اڑاتی ہے 
تو ہی جانے تو ہی سمجھے اپنی بات

شب بیداروں پر بھی ایک نظر مولا
تو قادر ہے کر سکتا ہے دن کو رات

اظہر فراغ

Comments