ہوئی ہے روح مری جب سے آشنائے درود

ہوئی ہے رُوح مری جب سے آشنائے درود
لہو میں گونجتے رہتے ہیں نغمہ ہائے درودؐ
دروُدازل ہی سے موجود ہے پہ دنیا میں
حضورؐ آئے تو رکّھی گئی بنائے درود
کھلایہ منزلِ ہستی کا مجھ پہ رازِ نہاں
نجات کا کوئی رستہ نہیں سوائے دروُد
برہنہ لفظ لبوں سے کبھی ادانہ ہوئے
زباں نے پہنی ہے جب سے مری قبائے دروُد
پھراس کے بعد یہ سوچیں گے گفتگو کیاہو
جوآئے پہلے سُنے اور پھرسُنائے دروُد
ازل سے گونج رہی ہے سماعتوں میں اذاں
بنی بنائی ملی ہے ہمیں فضائے دروُد
وہی جو مالک ومختار ہے دوعالم کا
اسی کے نام سے ہوتی ہے ابتدائے دروُد
خدا کا شکر اداکیجیے کہ ہم کو سلیمؔ
بنامِ اسمِ محمدؐ ملی متاعِ دروُد
سلیم کوثر

Comments