لوگ ہو جاتے ہیں جی جی کے پرانے کتنے

ذہن میں یاد کے گھر ٹوٹنے لگتے ہیں شہابؔ
لوگ ہو جاتے ہیں جی جی کے پرانے کتنے
مصطفی شہاب

Comments