میاں دلیل نہیں ہے سند ہماری ہے
میاں دلیل نہیں ہے سند ہماری ہے
یہ عشق وشق تو پل پل کی آہ و زاری ہے
ذرا سی دیر رکو ہم یقین تو کر لیں
تمہارے جانے کا سن کر بھی سانس جاری ہے؟
بھڑکتی جاتی ہے ہر سمت آگ سینے میں
مرے خیال میں اس نے قبا اتاری ہے
طویل شب کے کسی آخری کنارے پر
ہماری آس کی قسمت کہ روز ہاری ہے
ہمیں کیا علم کہ نثری بھی نظم ہوتی ہے
ہمارا شغل تو صاحب غزل شماری ہے
ہمارے لوگ بھلا بے شعور کیونکر ہیں
انہوں نے زیست کے پرچے میں نقل ماری ہے
خالد ندیم شانی
Comments
Post a Comment